ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت صرف اس ملک کو دی جائے گی کہ جو امریکہ اور اسرائیل کے سفیر کو ملک بدر کرے گا۔ایران کی سرکاری خبر رساں ادارے کی جانب سے ایکس پر جاری ایک بیان میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان کو شئیر کیا گیا ہے جس میں ایرانِ پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ کوئی بھی عرب یا یورپی ملک جو اپنے ملک سے اسرائیل اور امریکہ کے سفیروں کو نکال دے گا، انھیں کل سے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے مکمل اختیار اور آزادی حاصل ہوگی
دوستوں کو دبئی بلائیں، 3000 درہم کا فائدہ اٹھائیں
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز میں جہاز رانی میں خلل ڈالنے کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران نے ایسا کوئی اقدام کیا جس سے آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل رک جائے تو اسے انتہائی شدید کارروائی کا سامنا کرنا پڑا گا۔واضح رہے کہ دنیا کے تقریبا 20 فیصد تیل کی ترسیل اس آبنائے سے ہوتی ہے اور جنگ کی وجہ سے سمندری آمدورفت میں شدید کمی آئی ہے جس کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ایرانی پاسدارنِ انقلاب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کا فیصلہ ہم کریں گے۔ پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کے حملے جاری رہے تو تہران خطے سے ایک لیٹر تیل بھی برآمد ہونے نہیں دے گا۔

