خیبر پختونخوا حکومت نے رمضان پیکیج 2026 کے مستحقین کے لیے عائد کردہ بینک اکانٹ کی لازمی شرط کو باضابطہ طور پر ختم کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں صوبائی حکام کی جانب سے ایک باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ۔کے پی حکومت نے ضرورت مند خاندانوں کیلئے 12,500 روپے مالی امداد کا اعلان کیا تھا، لیکن اس کے ساتھ ہی یہ شرط بھی رکھی تھی
آپریشن غضب للحق، 133 طالبان ہلاک، 200 سے زائد زخمی
کہ تمام مستحقین کا بینک اکائونٹ ہونا لازمی ہے۔ اس فیصلے پر صوبے بھر سے سخت ردِعمل سامنے آیا ، جس میں شہریوں اور مقامی نمائندوں نے اسے ایک “غیر حقیقت پسندانہ شرط قرار دیا تھا۔دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں رہنے والے غریب خاندانوں کے لئیبینکنگ کی سہولیات تک رسائی ناممکن حد تک مشکل تھی جبکہ دیہاتوں میں رہنے والی اکثریت کے پاس نہ تو بینک اکائونٹس ہیں اور نہ ہی وہ بینکنگ کے پیچیدہ طریقہ کار سے واقف ہیں۔حکومت نے رجسٹریشن کے عمل میں درج ذیل تبدیلیاں کی ہیں ،جس کے تحت اب مستحقین کو بینک اکائونٹ کے بجائے ان کے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ اور موبائل فون نمبر کی بنیاد پر رجسٹر کیا جائے گا۔اس فیصلے سے صوبے کے ہزاروں وہ خاندان بھی مستفید ہو سکیں گے،
سو سال بعد پہلی جنگِ عظیم کے پنجابی فوجیوں کو جنگی شہدا ء کا درجہ مل گیا
جو بینک اکائو نٹ نہ ہونے کی وجہ سے امداد سے محروم ہونے کے خطرے سے دوچار تھے۔

