2025
انسانی تاریخ کا تیسرا گرم ترین سال قرار
انسانی تاریخ کا تیسرا گرم ترین سال قرار دیا گیا ہے اور خام ایندھن سے خارج ہونے والی آلودگی کی اس بڑی وجہ ہے۔
اقوام متحدہ کے عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ 2025 میں بھی عالمی سطح پر درجہ حرارت میں غیرمعمولی اضافے کا سلسلہ جاری رہا۔

اس عرصے میں فضائی درجہ حرارت صنعتی عہد سے قبل کے مقابلے میں اوسطاً 1.44 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ ہوا۔
اس سے قبل 2024 انسانی تاریخ کا گرم ترین سال قرار پایا تھا جس کے دوران اوسط عالمی درجہ حرارت صنعتی عہد سے قبل کے مقابلے میں 1.6 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ ہوا۔
اسی طرح 2023 میں اوسط درجہ حرارت 1.48 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہا تھا۔
خیال رہے کہ 2015 کے پیرس معاہدے میں طے کیا گیا تھا کہ عالمی درجہ حرارت کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز نہیں کرنے دیا جائے گا۔
مگر ایسا اس وقت تصور کیا جائے گا جب ایک یا 2 سال کی بجائے پوری ایک دہائی کا درجہ حرارت صنعتی عہد سے قبل کے مقابلے میں 1.5 ڈگری زیادہ ہو۔
مگر ماہرین کے مطابق بظاہر ایسا لگتا ہے کہ پیرس معاہدے کا طے کردہ ہدف کا حصول اب ممکن نہیں رہا اور درجہ حرارت اس سے آگے نکل جائے گا، اب ہمارے پاس یہی انتخاب ہے کہ مستقبل کے لیے خود کو تیار کریں۔
14 جنوری کو ایک تحقیق کے نتائج جاری کیے گئے جس میں سیٹلائیٹس، بحری جہازوں، طیاروں اور موسمیاتی اسٹیشنز کے 8 ڈیٹا سیٹس کا تجزیہ پیش کیا گیا تھا۔
ڈبلیو ایم او کے تجزیے میں شامل 6 ڈیٹا سیٹس میں 2025 کو تاریخ کا تیسرا گرم ترین سال قرار دیا گیا جبکہ دیگر 2 میں سے دوسرا گرم ترین سال قرار دیا گیا۔

